Friday, 11 October 2013

٭حقیقی بادشاہی حکایات مولانا جلال الدین رومیؒ

٭٭٭٭٭٭٭٭ حقیقی  بادشاہی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت #ابراہیم ادھمؒ دریا کے کنارے پر بیٹھے اپنی گدڑی سی رہے تھے اچانک وہاں سے ایک وزیر کا گزر ہوا اس نے جو حضرت ابراہیم ادھمؑ کو اس حالت میں دیکھا تو بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ کس قدر عظیم سلطنت کے مالک ہیں اور فقیری کو اختیار کر رکھا ہے۔ بادشاہ ہو کر فقیروں کی طرح گدڑی سی رہے ہیں۔ جبکہ ادھر ان کے نہ ہونے سے سلطنت برباد ہوئی جا رہی ہے۔ حضرت ابراہیم ادھمؒ نے کشف کے ذریعے سے اس کے #دل کی بات معلوم کر لی اور اس کو اپنے قریب بلایا۔ وہ وزیر آپؒ کے قریب آیا تو آپؒ نے اس سے فرمایا تو نے اپنی سمجھ کے مطابق بات کی ہے۔ اس کے بعد آپؒ نے اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور پھر بلند آواز سے پکارا کہ میری سوئی مجھے دو۔ اچانک دریا کے اندر سے ہزاروں مچھلیاں اپنے اپنے منہ میں سونے کی سوئی دبائے ہوئے پانی سے باہر نکلیں۔ حضرت ابراہیم ادھمؒ نے پھر آواز دی۔ اے #اللہ! مجھے صرف میری سوئی چاہیے۔ چنانچہ اسی وقت ایک دوسری #مچھلی برآمد ہوئی جس کے منہ میں حضرت ابراہیمؒ کی سوئی تھی۔ آپ نے سوئی اس مچھلی سے لے لی۔
اس کے بعد آپؒ نے اس وزیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بادشاہی اچھی ہے یا وہ حقیر سلطنت کی بادشاہی۔ پھر خود ہی فرمایا، یقینا یہ بادشاہی حقیقی بادشاہی ہے اور سب سے اچھی ہے۔ یہ سن کر اور دیکھ کر وزیر نے معذرت کی اور اپنی راہ پر چل دیا۔ -


حکایات مولانا جلال الدین رومیؒ

No comments:

Post a Comment